بنگلورو۔4؍ اگست(سیاست نیوز) درج فہرست ذاتوں اور قبائل کو ترقی میں ریزرویشن دینے پر سپریم کورٹ کی روک سے بچنے کیلئے ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں ایک آر ڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں جن ملازمین کو ریزرویشن کے تحت ترقی دی جاچکی ہے، آر ڈی ننس کی رو سے ان کی ترقی واپس نہیں لی جاسکے گی۔ یہ بات آج ریاستی وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا نے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی قیادت میں قائم کابینہ ذیلی کمیٹی نے اس طرح کے آر ڈی ننس کے اجراء پر حکومت پر زور دیا ہے۔آج کمیٹی کی میٹنگ میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے وابستہ سرکاری ملازمین کو ترقی میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہو اس پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور طے کیاگیا کہ ریاستی حکومت کو یہ سفارش کی جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان ملازمین کو متاثر ہونے سے بچانے فوراً آرڈی ننس جاری کردیاجائے۔انہوں نے کہا کہ بھرتی اور ترقی کے معاملے میں ریزرویشن کیلئے جو ضوابط منظور ہوئے ہیں وہ آئین کی دفعہ 16کے تحت آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ریاستی حکومت نے آر ڈی ننس مرتب کرنے کی پہل کی ہے، اس آر ڈی ننس کی روشنی میں آنے والے دنوں میں مختلف محکموں کے مخلوعہ عہدوں پر درج فہرست طبقات سے وابستہ ملازمین کو ترقی دے کر مقرر کیاجاسکتاہے۔ پیر کو ہونے والی کابینہ میٹنگ میں اس سلسلے میں قطعی فیصلہ لیا جائے گا۔